Mehak ali حیدراباد میں دلہن پراٹھے کی دھوم




intro is weak. foto not impressive
کچھ مزیدار جملے یا کہاوت انٹرو میں لکھو کہ دکاندار اپنی مصنوعات بیچنے کے لئے کیا کیا جتن کرتے ہیں، چونکا دینے والے نام رکھتے ہیں۔ جیسے کراچی میں ایک ہوٹلہے سیکنڈ و وائیف

حیدراباد میں شاہی بازار کے دلہن پراٹھے کی دھوم
فیچر مہک علی 
mehak ali feature-urdu-bs iii
کچھ دن پہلے اتوار کے دن ہم دوستوں نے کہیں باہر ناشتے کا منصوبہ بنایا اور ارادہ تھا کہ آج کچھ منفرد ناشتہ کرنا ہے ۔ روایتی ناشتے کو ایک طرف رکھ کے آج بلکل الگ چیز کو اپنے ناشتے کا حصہ بنانا تھا اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے ریشم گلی کا رخ کیا کیفے افضال پر پہنچ کے ناشتے کی فہرست دیکھی تو ایک نام دیکھ کے بڑی حیرت میں مبتلا ہوئے نام بہت دلچسپ تھا اور اس کی وجہ سے ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ آج ناشتے میں اسی سے پیٹ پوجا کرنی ہے ۔ جی ہاں نام جان کے آپ بھی بہت حیران ہونگے ۔ اس منفرد شے کا نام ہے دلہن پراٹھا جو اپنی مثال آپ تھا ۔ 
دلہن پراٹھے کی انفرادیت اور اس نام نے مجھے اتنا لطف اندوز کیا کہ میں نے اس کے بارے میں مزید دلچسپ معلومات لینے کا فیصلہ کیا کیفے افضال کے مالک دلہن پراٹھہ تیار کرنے والے باورچی اور اس سے لطف اندوز ہونے والے لوگوں سے گفتگو سے کافی نت نئی باتیں منظر عام پر آئیں ۔
کیفے افضال کے مالک کا کہنا تھا کہ یہ دلہن پراٹھا پچھلے 40سالوں سے حیدرآباد کی عوام میں مقبول ہے بلکہ نہ صرف حیدرآباد اندرون سندھ سے بھی کافی افراد دلہن پراٹھے سے ناشتے کا مزہ دوبالا کرتے ہیں لیکن رفتا رفتا اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا اور پورے پاکستان میں اس دلہن پراٹھے کی دھوم ہوگئی ان کا اس بارے میں مزید یہ کہنا تھا کہ عوام دلہن پراٹھے کے نام سے ہی بہت زیادہ اس کی طرف راغب ہوتے ہیں اور ان کی دلچسپی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ میرے ایک سوال پر کہ اس کا نام آخر دلہن پراٹھا ہی کیوں رکھا گیا ؟ تو وہ پہلے تو تھوڑا مسکرائے اس کے بعد انہوں نے جواب دیا کہ اس پراٹھے کو پیش اتنی سجاوٹ کے ساتھ کیا جاتا ہے جس طرح شادی کے دن دلہن تیار ہوتی ہے۔ جتنے نت نئے ملبوسات ، بیش بہا زیورات مختلف اور خوبصورت رنگوں سے سجی دلہن تمام لوگوں میں انفرادیت رکھتی ہے بلکل اسی طرح پراٹھا تو ناشتے کی جان ہے اور تمام ہوٹلز میں صبح کے ناشتے میں پراٹھا آسانی سے مل جاتا ہے ۔ مگر ہمارے اس پراٹھے کی بناوٹ اور پھر سجاوٹ بلکل ایک دلہن کی مانند کی جاتی ہے ۔ تو اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے اس کا نام دلہن پراٹھا رکھا تاکہ یہ عوام کی اولین ترجیح رہے ۔ 
پھر میں نے اپنا رخ وہاں پر موجود باورچی کی طرف کیا جو گرما گرم دلہن پراٹھے تیار کرنے میں مصروف تھا ۔ جس طرح دلہن پراٹھا اپنے نام کی طرح بلکل منفرد ہے اسی طرح اس کے پکانے اور سجانے کا طریقہ بھی سب سے الگ ہے اور یہ دیکھ کر مجھے کافی حیرت ہوئی کہ سب سے پہلے میدے کو دودھ اور مکھن میں گوندھا جاتا ہے پھر اصلی گھی میں پراٹھے کو تلہ جاتا ہے ۔ اس کے اندر قیمہ بھرا جاتا ہے اور اس کے بعد انڈے ، کاجو، ادرک ، اسٹرابری سے سجایا جاتا ہے۔ آخر میں لیگ پیس رکھ کر لگایا لیمو ں اور مختلف مصالحوں کا تڑکا اور گرما گرم پیش کردیا ۔ 
دلہن پراٹھے کی تیاری کے بعد میں نے وہاں پر موجودلوگوں سے ان کے تاثرات جانے کہ کس طرح وہ دلہن پراٹھے سے اپنی صبح کا آغاز کرتے ہیں ۔ اور کیوں اس کے ذائقے سے محظوظ ہوتے ہیں میرے پاس ہی بیٹھے ایک خاندان سے گفتگو کا آغاز کیا جوکہ اس وقت گرما گرم دلہن پراٹھے پر ہاتھ صاف کررہے تھے ۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہر اتوار کو پورے خاندان کے ساتھ یہاں کا رخ کرتے ہیں اس کا اپنا ایک منفرد ذائقہ ہے جو کہ پورے حیدرآباد میں کہیں نہیں ہے ۔ صرف نام ہی ایسا نہیں بلکہ ذائقے کے لحاظ سے بھی بہت ہی زیادہ لذیز اور منفرد ہے اور اپنی مثال آپ ہے ۔ 
وہاں پر موجود دو خواتین اور نظر آئیں جوکہ دلہن پراٹھے کی لذت سے لطف اندوز ہورہی تھیں۔ میرے سوال کرنے پر ان میں سے ایک لڑکی نے شرماتے ہوئے بولا کہ میں خود نئی نویلی دلہن ہوں اور میری شادی کو صرف 3دن ہوئے ہیں مگر اس دلہن پراٹھے کی اتنی تعریف سنی کہ آج اس کی لذت سے صبح کو مزید تازہ دم ہونے کیلئے آگئے ہیں ۔ لوگوں سے گفتگو کرنے کے بعد میں نے اپنا رخ وہاں پر موجود کیفے پر بیٹھے ایک شخص پر کیا جو تمام رقم کا حساب کتاب کررہا تھا ۔ ان سے پوچھنے پر انہوں نے قیمتیں بتائیں کہ ماوہ پراٹھا250روپے ، چکن دلہن پراٹھا250روپے اور چکن قیمہ پراٹھا 200روپے کا ہے ، یہاں ہر وقت لوگوں کا رش رہتا ہے صبح 9بجے سے دوپہر12بجے تک لوگ ناشتے سے محظوظ ہوتے ہیں اور لگ بھگ ہم 4سے5ہزار روز کے کماتے ہیں ۔ 
ان تمام دلچسپ معلومات لینے کے بعد میں نے گھر آنے کا فیصلہ کیا راستے میں دلہن پراٹھے کے بارے میں سوچتے ہوئے میرے ذہن میں کافی مثبت خیال روشن ہورہے تھے کہ حیدرآباد میں بھی اس قسم کی منفرد چیزوں کی وجہ سے حیدرآباد کو مزید ترقی فراہم ہوگی اور لوگوں میں مقبولیت پروان چڑھے گی ۔ 
آخر میں میرا ایک مشورہ ہے کہ زندگی میں ایک بار دلہن پراٹھے سے اپنی صبح کو لطف اندوز کریں اور تازہ دم ہوجائیں۔ 
فیچر
مہک علی 
بی ۔ ایس پارٹ(III)
رول نمبر2K17/MC/56

Comments

Popular posts from this blog

Musabbiha Imtiyaz-حیدرآباد میں فوڈ سٹریٹ کا رحجان

حیدرآباد میں صفائی کی ناقص صورتحال