Posts

Showing posts with the label Sadia Shamim

sadia shamim ملازمت پیشہ خواتین کو درپیش مسائل

سعدیہ شمیم  آرٹیکل  پاکستان میں ملازمت پیشہ خواتین کو درپیش مسائل بطور انسان عورت برابری چاہتی ہے۔جو کہ اس کا حق ہے۔خواتین کے حقوق کا مسئلہ روز بروز شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ عورت کا سماجی کردار تبدیل ہوا ہے۔ وہ گھرداری سے نکل کر سماج کے دیگر شعبوں میں بھی بڑے پیمانے پر داخل ہو گئی ہے۔ انہیں معاشرے میں مختلف انداز میں مختلف شعبہ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ آج بھی عورت تعلیم میں مردوں سے کسی طور پیچھے نہیں ہے بہت سے شعبہ میں خواتین نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے ۔تعلیم میں آگے ہونے کے باوجودآج بھی عورت کے لیے بہت سے منافع بخش شعبوں میں نوکریوں کا تناسب بہت کم ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے انسانی شعور کے ساتھ ساتھ معاشی اور سائنسی ترقی بھی ہے۔ اب ہم نئے سائنسی اور معاشی دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اسی صنعتی انقلاب کی وجہ سے خواتین کے عالمی دن کی ابتداء 1900میں ہوئی ۔ اور خواتین ا پنے حقوق اور برابری کا مطالبہ کرنے لگیں ۔انیسویں اور بیسویں صدی میں ہی عورت کو ووٹ کا حق ملا۔ نیوزیلینڈ پہلا ملک تھا جس نے 1883 میں عورت ووقٹ حق دیا۔ اس کے بعد عورت کے سیاسی حق ک...

Sadia Shamim کامریڈ انعم خان سے انٹر ویو

Image
سعدیہ شمیم  2k17-mc-79 کامریڈ انعم خان  سے انٹر ویو کامریڈ انعم خان انعم خان کا تعلق ملتان سے ہے لیکن ۲سال سے کراچی میں رہتی ہے۔ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد B-COMکیالیکن پچھلے ۰۱سال سے پولیٹیکس میں کام کر رہی ہے بنیادی تعلق عالمی مارکسی رجحان سے ہےIMTجو کہ دنیا کے مختلف ممالک میں سوشلزم کے حوالے سے جدوجہد کر رہی ہیں اسکے لیے ما رکسز م کا طریقہ کارہے۔پاکستان میں نوجوان کی تنظیم کا نام progressive youth allienceہے اور پاکستان میں خواتین کے شعبہ کو انعم خان منظم کرتی ہے۔اس کے علاوہ انعم خان کی پہلی کتاب عورتوں کے حقوق اسی  سال منظر عام پر آئی ہے۔  س:کمیونسٹ سویٹ یونین (روس)زوال کے بعد ختم ہو گیا قابل عمل نہیں رہا۔اسکے کیا دلائل ہیں؟ ج:سویٹ یونین کے انقلاب کو لیڈ کرنے والے کا مریڈ لیلین کامریڈ روسکی اور بولڈ شیٹ پارٹی کے لیڈر تھے انھوں نے یہ انقلاب روس سے شروعات کی جیسے دنیا سویٹ یونین کے نام سے جانتی ہے،تو انکی اپنی تحریر میں ہی ہمیں بار بار یہ پڑھنے کو ملتی ہے کہ روس کا انقلاب ایک حدود میں رہ کر کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگا کیوں کہ انکا مقصد صرف ای...

Yousuf Laghari profile by Sadia Shamim Profile یوسف لغاری

Image
Referred back حقوق کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے یوسف لغاری  پروفائل سعدیہ شمیم  ساٹھ اور ستر کے عشرے نے سندھ میں ایسی نسل دی جو اہل نظر بھی تھی تو اہل فکر بھی۔ اس کی وجہ سندھ میں ون یونٹ اور ایوبی آمریت کے خلاف تحریک تھی۔ جس میں نوجوانوں نے یعنی طلباء نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ادیبوں، شاعروں، سیاستدانوں، ڈاکٹروں، وکلاء اور صحافیوں کے بڑے بڑے نام اسی دور کی پیداوار ہیں۔ یوسف لغاری بھی اسی کھیپ کا حصہ ہیں۔جو ستر سال کی عمر میں بھی ایکٹوسٹ ہیں۔ میرپورخاص کے چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے یوسف لغاری نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے اور پھر ضلع ہیڈکوارٹر میرپورخاص سے حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں سندھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ 1967 میں جب کمشنر حیدرآباد مسرور احسن کے کہنے پر سندھ یونیورسٹی کے وائیس چانسلر حسن علی عبدالرحمان کا تبادلہ کیا گیا تو یونیورسٹی کے طلباء سراپا احتجاج ہوگئے۔ یہ یونیورسٹی کی خود مختاری میں نوکرشاہی کی مداخلت تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کمشنر مسروراحسن خود وائیس چانسلر بننا چاہتے تھے۔  10 نومبر 1964ء کو حیدرآباد اسٹوڈنٹس فیڈر...

Sadia Shamim Article 2K17-MC-79

اصل مسئلہ کیا ہے؟ ٹریفک سگنل کا نہ ہونا یا ہیوی ٹریفک؟ ہیوی ٹریفک سے مراد ٹرکس وغیرہ  ہوتا ہے۔ اصل وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ کئی روڈ ون وے ہیں لیکن ٹریفک عملہ اس پر عمل درآمد کرانے میں ناکام ہے۔  شہری تعاون نہیں کرتے۔ تلک چاڑھی ون وے ہے لیکن اسکو کوئی نہیں مانتا خاص طور پر موٹر سائیکل والے۔  پرانے شہری علاقے کی شہر کی تین بڑی سڑکیں ہیں۔ اسٹیشن روڈ، مارکیٹ سے پھلیلی روڈ، اور رسالہ روڈ۔ ان میں کوئی بھی سڑک جام ہو جائے تو پورا شہر جام ہو جاتا ہے۔  اسی طرح صدر جام ہوتا ہے تو وہ رسالہ روڈ اور اسٹیشن روڈ پر اثرانداز ہوتا ہے۔  گاڑیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ عام اور اہم سڑکوں پرکمرشل پارکنگ کی وجہ سے سڑکوں پر گاڑیاں کھڑی رہتی ہیں۔   پولیس کا ریکارڈ چیک کیا جائے کہ ماہانہ یا سلانہ کتنے چالان کئے ہیں۔ اور یہ بھی کہ شہر میں گاڑیوں کی تعداد  میں اضافے کے تناسب سے ٹریفک پولیس تعینات نہیں۔  سعدیہ شمیم خواجہ رول نمبر 79  ارٹیکل حیدر آباد میں ٹریفک کے مسائل -----------  شہری منصوبہ بندی کرنے والوں کے سامنےآبادی میں اض...

Sadia Shamim BS -III roll-79 feature

Image
revised  Revised. Seems good سعدیہ شمیم خواجہ  فیچر چائے خانہ جدید اور قدیم روایات کا امتزاج  کہتے ہیں کہ کئی مشہورلکھاریوں کے لیئے چائے ان کے روز مرہ کا معمول اور لکھنے کے عمل کا لازمی جز رہی ہے۔ جی ہاں لکھاری ہوں اور چائے نہ ہوں؟ایسا ممکن ہی نہیں۔ STEPHEN KINGنے اپنے انٹرویو میں کہتے ہیں ’’ جب میں لکھنے بیٹھتا تو ایک پانی کا گلاس اور ایک چائے کا کپ اپنے سامنے رکھتا ہوں۔ ‘‘  چائے دنیا کا پسندیدہ مشروب ہے ۔ لفظ چائے چینی زبانسے ماخوذہے ۔چائے چین کی پیداوار ہے اور چینیوں کی تشریح کے مطابق یہ مشروب پندرہ سو برس سے استعمال کیا جارہا ہے۔ چائے دراصل دو لفظوں کا مرکب ہے 58چا 58 او ر 58 ئے 58 ۔دنیا بھر میں ہر زبان میں بولے جانے والے لفظ میں تھوڑی بہت تبدیلی ہے ۔ اردو ،ترکی،چینی،اور روس میں چائے،انگریزی میں’’ ٹی‘‘، فرانسیسی میں تھائے کہتے ہیں ۔ پنجابی میں چاء،سندھی میں چانھ، پشتو میں ساؤ کہتے ہیں۔ قدیم زمانے سے چائے خانوں کا رواج چلتا آرہا ہے ،قدیم زمانے میں چائے امراؤ کی مشروب تھی ۔پھر یہ عام وخاص لوگوں میں مقبول ہوئی ،لوگ شام کے وقت اپنی محفل کی رونق بڑھاتے تھے ، ...