Posts

Showing posts with the label Article

Talha Shaikh شجر کا ری

Again do not know this topic is approved or not? plz refer to approval slip  Its heading shows it is too generalised.  U have been talking about importance of plantation and campaign in KpK, Islamabad, what about Sindh and Hyderabad where u are living and studying?  Do not recall in which shape this topic was approved File name is not proper.  Do not politicize Topic's generality and file names make problem in record keeping, شجر کا ری طلحہ شیخ 2K17/MC/150  درخت کسی ملک و قوم کو انتہائی قابل قدر اور قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور ملک کی اقتصادی، معاشی، معاشرتی اور ماحولیاتی حالات کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں یہ درخت ہی ہیں تو جن کی بدولت ہمیں صاف ہوا ، غذا اور پانی کے ساتھ ساتھ عمارتی لکڑی فرنیچر، ایندھن ،نباتاتی ادویات ، پھل ، سبزیاں اور میوہ جات اس سے حاصل ہوتے ہیں ۔  شجر کار ی اور درخت لگا نے والے پو دے لگا نا حضو ر اکر م ﷺ کی سنتو ں میں سے ایک سنت ہے اور اسکا انعا م بھی اس شخص کی مو ت کے بعد بھی جا ری رہتا ہے ۔ قدرت...

Waleed Bin Khalid article تعلیم نسواں

This is essay, not article. An article should be current, relevant, in time and geography, where where 5 Ws + 1 H also apply on article What has changed in women education since last two decades or so, What has changed in Pakistan for women education? etc Some specific dimension, aspect, angle, Information Some figures facts,  تعلیم نسواں  ولید بن خالد2k17-MC-105  علم کی پرواز کی کوئی قید نہیں ہے یہ معاشرے کے ہر طبقہ میں موجود لوگوں کے دل و دماغ کو روشن کرنے اور انہیں راہ راست پر گامزن کرنے کا ہنر اور صلاحیت رکھتا ہے اور اس بات سے ہم بخوبی واقف ہیں کہ علم وہ شمع نہیں جو صرف مردوں کو فیضیاب کرے بلکہ یہ تو وہ مشعال ہے جو ہر دل و دماغ میں چھپے اندھیرے کو خواہ وہ کسی مرد کے اندر ہو یہ پھر عورت کے اندر اس میں مکمل اجالہ کر کہ رکھ دیتی ہے چنانچہ تعلیم حاصل کرنا ہر مرداورعورت پر لازم ہے۔ ترقی صرف وہ ہی قوم کر سکتی ہے جو تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں۔ علم کے بغیر انسان خدا کو بھی پہنچاننے سے قاصر ہے۔ کسی بھی عمل کے لئے علم کا حاصل کرنا بہت ضروری ہے کیوں اس تعلیم کے بغی...

syed hamza hussain article والدین کی کونسلنگ

موجودہ دور اور والدین کی کونسلنگ  سید حمزہ حسین 2K17/MC/98 ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں بہت چھوٹی عمر سے یہ سکھایا اور بتایا جاتا ہے کہ تربیت اور کونسلنگ کی ضرورت صرف بچوں اور نو جوانوں کو ہوتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ ماں باپ کا کہا ہر صورت ماننا چاہئے ۔ ہمیں اس بات پر مطمئن کیا جاتا ہے کہ والدین کا کہا لفظ حرف آخر ہے اور ان کے آگے سوال اٹھانا بد تمیزی میں شمار ہوتا ہے ان کے دیئے ہوئے حکم کو پورا کرنے والا ہی ایک اچھی اولاد کہلانے کے قابل ہوتا ہے۔ پر کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا واقعی آج کل کے دور کے والدین کا رویہ اپنی اولاد کے لئے خوشگوار ہے؟ کیا آج کے والدین نئے دور کے تقاضوں کو سمجھ کر اپنی اولاد سے بات کرنے کو تیار ہیں؟ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نہیں ۔  آج کل کے جدید دور جہاں دنیا روز بروز ترقی کر رہی ہے اور یہ ترقی صرف سائنس کے میدان میں نہیں ہو رہی بلکہ سماجی رویوں اور طور طریقے بھی روز بروز نئی شکل اختیار کر رہے ہیں ۔ ایسے دور میں رشتوں کے بیچ کا فیصلہ بڑھ رہا ہے لوگوں کو ایک دوسرے کو سمجھانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے اور اس کے سب سے بڑے شکار والدین اور او...

sadia shamim ملازمت پیشہ خواتین کو درپیش مسائل

سعدیہ شمیم  آرٹیکل  پاکستان میں ملازمت پیشہ خواتین کو درپیش مسائل بطور انسان عورت برابری چاہتی ہے۔جو کہ اس کا حق ہے۔خواتین کے حقوق کا مسئلہ روز بروز شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ عورت کا سماجی کردار تبدیل ہوا ہے۔ وہ گھرداری سے نکل کر سماج کے دیگر شعبوں میں بھی بڑے پیمانے پر داخل ہو گئی ہے۔ انہیں معاشرے میں مختلف انداز میں مختلف شعبہ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ آج بھی عورت تعلیم میں مردوں سے کسی طور پیچھے نہیں ہے بہت سے شعبہ میں خواتین نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے ۔تعلیم میں آگے ہونے کے باوجودآج بھی عورت کے لیے بہت سے منافع بخش شعبوں میں نوکریوں کا تناسب بہت کم ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے انسانی شعور کے ساتھ ساتھ معاشی اور سائنسی ترقی بھی ہے۔ اب ہم نئے سائنسی اور معاشی دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اسی صنعتی انقلاب کی وجہ سے خواتین کے عالمی دن کی ابتداء 1900میں ہوئی ۔ اور خواتین ا پنے حقوق اور برابری کا مطالبہ کرنے لگیں ۔انیسویں اور بیسویں صدی میں ہی عورت کو ووٹ کا حق ملا۔ نیوزیلینڈ پہلا ملک تھا جس نے 1883 میں عورت ووقٹ حق دیا۔ اس کے بعد عورت کے سیاسی حق ک...

Muntazir Shah Article English

Is it article or feature? u should have mentioned.  Author's name and class , roll No missing in text file Major portion is copy paste from https://www.motionsource.com/blog/the-vlog-blog-history-of-vlogging https://en.oxforddictionaries.com/definition/vlogging Referred back Plz write from your own mind. this is copy paste Vlogging at its Peak The activity or practice of posting short videos to maintaining a Vlog .Vlogging is a great way to reach a wider audience and can even drive new visitors to your site . You probably have never heard of the name ‘Adam Kontras’ but he is credited with creating the first Vlog .Kontras set off on a Cross-Country road trip to Los Angeles to persue his dream of being in show business, and he wrote blog entries along the way to inform his friends and family of his Adventures. Yes! This was the beginning of a new Trend among the all ages. Now here are five top Vloggers of Pakistan. ·          Zaid...

hifza rajput article بچوں سے جبری مشقت

 REVISED MAGZINE    نام: حفضہ راجپوت رول نمبر:42 کلاس:BS Part-III آرٹیکل ’’ بچوں پر جبری مشقت کے منفی اثرات ‘‘ بچے کسی بھی قوم کا روشن مستقبل اور اثاثہ ہوتے ہیں ان کی بہترین تربیت پر جس قدر توجہ دی جائے تو قوموں کی ترقی کے روشن امکانات ہوتے ہیں مگر اس وقت دنیا میں بچوں سے جبری مشقت کے حوالے سے جو صورتحال اور نتائج سامنے آئے ہیں وہ نہایت قابلِ افسوس و قابلِ فکر ہیں۔ دنیا کے تمام قوانین کے تحت بچوں سے جبری مشقت جرم ہے خاص طور پر جنوبی ایشیاء کے خطے کا اہم سماجی و معاشی مسئلہ ہے ۔ جبری مشقت کی بنیادی وجوہات میں بڑھتی ہوئی آبادی ، مہنگائی ، والدین کا تعلیم یافتہ نہ ہونا اور بچوں کے حقوق و قوانین کے حوالے سے شعور کی کمی ہے ۔ جبری مشقت سے بچوں کی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں اور ان کی جسمانی و ذہنی نشو ونما پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ بچوں سے مشقت کرانے کے سبب وہ اخلاقی طور پر احساسی کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں وہ معاشرے میں خود و کمتر اور غیر متوازن محسوس کرتے ہیں اِن کی سوچ محدود ہو جاتی ہے جب کہ خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے ۔ کچھ بچوں میں مجرمانہ سوچ پیدا ہو جاتی ہے جب کہ کچھ بچ...

syed hamza hussain article والدین کی کونسلنگ

Filed late   Some figures facts, some reports and  examples are required. Expert opinion دور اور والدین کی کونسلنگ  سید حمزہ حسین 2K17/MC/98 ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں بہت چھوٹی عمر سے یہ سکھایا اور بتایا جاتا ہے کہ تربیت اور کونسلنگ کی ضرورت صرف بچوں اور نو جوانوں کو ہوتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ ماں باپ کا کہا ہر صورت ماننا چاہئے ۔ ہمیں اس بات پر مطمئن کیا جاتا ہے کہ والدین کا کہا لفظ حرف آخر ہے اور ان کے آگے سوال اٹھانا بد تمیزی میں شمار ہوتا ہے ان کے دیئے ہوئے حکم کو پورا کرنے والا ہی ایک اچھی اولاد کہلانے کے قابل ہوتا ہے۔ پر کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا واقعی آج کل کے دور کے والدین کا رویہ اپنی اولاد کے لئے خوشگوار ہے؟ کیا آج کے والدین نئے دور کے تقاضوں کو سمجھ کر اپنی اولاد سے بات کرنے کو تیار ہیں؟ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نہیں ۔  آج کل کے جدید دور جہاں دنیا روز بروز ترقی کر رہی ہے اور یہ ترقی صرف سائنس کے میدان میں نہیں ہو رہی بلکہ سماجی رویوں اور طور طریقے بھی روز بروز نئی شکل اختیار کر رہے ہیں ۔ ایسے دور میں رشتوں کے بیچ کا فیصلہ بڑھ رہا ہے...

umaima sana article english - - keep in hold

Filed late. will be checked  Copy paste from this link https://axcoreacademy.com/2018/08/20/best-entrepreneurs/ Umaima Sana 2k17/MC/151 Article English ENTREPRENEURSHIP Entrepreneurship is not a destination; it’s a journey. On this journey, successful entrepreneurs don't have an expectation of “arriving” to some finish line. If you do have that expectation, you won’t continue to push yourself to step outside of your comfort and grow. You won’t seek out the things that truly help your business experience explosive results because all those things require you stretching yourself. On any journey, you have times of joy and more than a few setbacks. During the times of joy, you feel like you can accomplish anything. It gives you the strength and motivation to continue to put in the work that helps your business. During the hard times, negative feelings and emotions can easily take over. Before you know it, you're feeling sorry for yourself and you turn to your fami...