Rida Jaffri کوٹری کی لال حویلی

 Rida Jaffri BS-III Roll 149 
 Lal Haveli of Kotri   Feature

بہت اچھا ہو جاتا اگر آپ کچھ لوگوں کے ایگزیکٹ کوٹیشن ڈالتے۔ بہرحال صحیح ہے۔
صحیح طور پر پیراگرافنگ کریں۔ نیا پہلو، نیئی معلومات، نئی بات نیا پیرا ہوتا ہے۔ 
فائیل نیم اور سبجیکٹ لائین درست نہیں۔ دوبارہ بھیجنے کی ضرورت نہیں۔

کوٹری کی لال حویلی 
ردا جعفری     بی ایس سال سوئم 
ویسے تو ہم عمر کے ہر حصے میں ڈراؤنی کہانیاں اور قصے سننا پسند کرتے ہیں اور ہم تو بچپن سے ہی بہت سی پر اسرار اور ڈراؤنی کہانیاں سنتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں پر کچھ قصے اور کہانیاں حقیقت پر مبنی ہوتی ہیں اسی طرح میری آنکھوں دیکھا حال اور کانوں سے سنی کچھ حقیقت باتیں ہیں ۔ سندھ کے شہر کوٹری میں واقع (لال حویلی ) ڈراؤنی اور پر اسرار منظر پیش کرتی ہیں ہمیشہ ہر کہانی اور قصہ کے پیچھے کچھ عجیب و غریب حولناک راز ہوتے ہیں اسی طرح لال حویلی کا بھی کچھ ایسا ہی احوال ہے اور لال حویلی اپنا ایک 
حولناک منظر پیش کرتی ہے 
 آج سے تقریبا55سال پہلے ایک فیملی اس گھر میں آباد تھی اور کافی سال سے ہنسی خوشی رہ رہی تھی اور پھر ایک روز ہفتے کی شام اچانک حویلی میں آگ لگ گئی اور کافی لوگوں کی تعداد آتش پر شور شرابے کر رہی تھی پر کسی نے مدد کے لئے قدم نہیں بڑھائے اور پھر اس خطرناک حولناک آگ میں جھلس کر اچانک ایک عورت اور اس کے دو بچے موت کی نظر ہوگئے اس حا د ثے پر ہر شخص غمگین ہو نے کہ سا تھ سا تھ حیرا ن اور پریشا ن بھی تھا بر حال اس دافعہ کہ بعد ایک شو ہر اور اس کا ایک مینا ہمیشہ کہ لیے اس حویلی کو فوراً چھوڑ کر چلے گئے اور پھر ہوا یوں کہ حویلی ویرا ن ہو گئی اور دفت پر لگا کر گز رنا گیا اور حویلی ویر ان ہو گئی اور کھنڈا کا منظر پیش کر گے لگی جیسے جیسے دفت گز رنا گیا اس ہی طرح سا تھ بہت سی پر اسرار ذراذنی اور انہوں نی باتیں ہو نے لگیں اُ س کہ لوگوں رات کہ اندھیرے میں مجیب وغریب آواز سنائی دینے لگیں اور آہستہ آہست بہ سلسلہ پڑھنا چلا گیا اور بھر آئے دن آئے دن خوفنا ک جینوں کے آواز اور کبھی کہنے کی تو کبھی بر ی طرح رونے کی آوازیں اسے لگیں اہل محلہ ان سب سے بہت پریشنا رہنے گلے تھے اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ ان سب عجیب وغریب آوازوں کی وجہ جان سکے لیکن جس بھی عالموں اور بزرگوں سے ان آوازوں کی وجہ پوچھی سب کا اس والھہ کی حقیقت جا ننے کہ بعد ایک ہی رد عمل اور جوا ب تھے کہ اس حویلی پر اثرات اور روحو ں کا برا سایہ ہے یہ جاننے کہ ہر شخص اس معا ملے سے درد ہو گیا تھا اور شخص بر ے چھو نے خوفز دہ ہو گئے تھے اور اس حویلی کو دیکھتے اور اس کی طرف سے گزر نے سے بھی خو ف آ نا تھا ۔ لا ل حویلی کی کھڑکیاں دروازے بھی کھلی رہ گئیں تھیں نقش لال حویلی کی داستان ہر شخص کی زبا ن اور دما غ پر اثر انداز ہو چکی تھی اور ہر کوئی اسے ڈراونی حویلی اور پرا سرار حویلی کہتا تھا اور پھر اس کا نا م بھی لا ل حویلی کہ نام سے مشہور ہو گیا تھا ۔ اہل محلہ اور شیر یوں کا کہنا تھا کہ لال حویلی میں کے گنا ہ لوگوں کا خون بہا اب بھلے وہ حادثاتی طور پر ہی ہو ا ہو لیکن بے گنا اور معصوم لوگ جا ں بحق ہوئے اور افسو س کسی نے پڑھ کہ مد د کرے کی کوشش بھی نہیں کی اس لیے اس پر برا سایہ اور بری روحیں ہیں۔ اس لیے یہ سب کہ لیے معمول کی بات ہوگئی تھی لیکن لال حویلی سے احتیا ط کر ے کہ بعد بھی کوئی بھی شخص لا ل حویلی کی پر ا سرایت اور دل حلا دینے والی وبشت سے محفو ظ نہ تھا ایک را ت ہوا یوں کہ ایک شخص رات کہ اند ھیر ے میں کسی کام سے تقریباً 11 بجے لال حویلی کہ سامنے سے گزر رہا تھا اور پھر پچھے سے اچا نک کچھ عجیب وغریب ہسنی اور رونے کی آواز سنائی دینے لگیں وہ آدمی پچھلے ہوا اور دیھا تو کوئی نہ تھا اس نے حاص تو جہ نہ دی اور آگے کی طر ف بڑ ھا دوسے چار قدم بڑ ھا ہی تھا کہ تو پھر سے مچو آوازیں سنائی دینے لگیں کوئی کبھی پیچھے سے ہنستا اور پھر رونے کی آواز آنے لگیں یہ شیخص اب کا فی حیرا ن اور پر یشا ن ہوگیا تھا لیکن پھر اس نے سو چا یہاں کو ن ہو سکتا ہے بلکہ اس سڑک پر تو کوئی بھی نہیں ہے صرف سڑک آواز کہتے ہیں جو سردی سے سے اور تیز ہواؤں سے بھونک رہے ہیں بلکہ یہ ضرور بد ماش سڑک میں جو مجھے رات کہ اند ھیرے میں دیکھ کر مجھے ذرانہ اور پریشا ن کر نا چاہتے ہیں پر میں بھی ان کہ اس بچکا نہ مز اق سے درنا والا نہیں ہوں پھر اس شخص نے زور دار آواز سے کہا کہ کون ہے جو مذا ق کررہا ہے میرے سا تھ سامنے آکر کر ے کا لی اندھیر ی رات اس پر سا ن سا ن سڑ ک اور سا منے لا ل حویلی کی مو جو د گی کی کو خوف اور ڈر میں مبتلا کر سکتی تھی لیکن لگتا یوں تھا کہ یہ شخص لا ل حویلی کی حقیقت سے اُغان سے برحال جب اس نے آواز دی تو لال حویلی سے ایک صبح کی آواز آئی اس کو حصہ آیا اور یہ لال حویلی کہ کھلے دروازے کو دیکھ کر اندر داخل ہو گیا اور سبزیاں جھڑ ھ کہ اوپر کی طر ف گیا پہلے کمر ے میں داخل ہوا اس میں کوئی نہ تھا اور اس طرح اس نے ہر کمرہ دیکھا پر کو ئی نہ تھا اب یہ شخص کا فی خوفزدہ اور زہ گیا تھا اور کچھ دیر گزر ی ہی تھی کہ ہر کمرے سے عجیب سی آوازیں آنے لگیں اور یہ شخص ان آوازوں کو برداشت نہ کر سکا اور زمین پر آگر ا اس نے کوشش کی کہ جلد ی سے کھڑا ہو کر گھر سے با ہر نکل جائے ا س نے بہت کوشش کی پر نہ جانے لال حویلی میں ایسی کیا وبشت تھی کہ شخص اپنے پاؤں پر کھڑا بھی نہ ہو سکا اور ذراور خوف سے اس کے دل کی ڈھر کن بند ہو گئی اور وہ مر گیا ۔ اس طرح یہ رات تو گزار گئی اور صبح ہوئی اور چند روز گز رنے کہ بعد لوگوں کو لاش کا سرخ ملا اور پھر پولیس نے تحقیقا ئی ٹیم کہ ذریعے موت کی وجہ جاننے کہ لیے کام شروع کر دیا تھا لیکن 15 روز گزر نے کے بعد بھی سراخ نہ مل سکا اور ہر شخص کی طرح بھی پولیس بھی حیرا ن رہ گئی تھی برحال اتنا سب ہونے کے بعد ہر گز رنا ون کی خﷺف سے کم نہ تھا ۔ معمول بن گیا تھا کہ شام ہو تے ہی کوئی بھی اپنے گھر سے نہیں نکلتا تھا اور پھر کچھ وقت بعد لوگوں کی اکثریت اپنے گھروں سے مشکل ہو نے لگے اور آہستہ آہستہ لال حویلی اور اس کہ ارد گر کا علا قہ خامو شی اور ویرا ن ہو گیا اور کوئی بھی شخص لال حویلی کی طرف سے گزر تا بھی نہیں ہے اور لال حویلی کہ نام سے یعنی خو ف آتا ہے ۔ 

Comments

Popular posts from this blog

Mehak ali حیدراباد میں دلہن پراٹھے کی دھوم

Musabbiha Imtiyaz-حیدرآباد میں فوڈ سٹریٹ کا رحجان

حیدرآباد میں صفائی کی ناقص صورتحال