Waleed Bin Khalid- حیدرآباد میں برانڈز پر پھیلانے لگےْْ

Edited by Nabiha Ahmed
Waleed Bin Khalid- BS-III-Roll 105 Feature
حیدرآباد میں ملکی و غیرملکی برانڈز پر پھیلانے لگےْْ۔۔۔!
ولید بن خالد 2k17-MC-105
ایڈٹ بائے: نبیہا احمد 
پاکستان کا تاریخی شہر حیدرآباد جو چند دہائی پہلے گاؤں کا لقب ساتھ لئے لنگڑاتا دکھائی دیتا تھا آج شہر کی دوڑ میں شامل ہو کر دنیا میں روشنیاں بکھیرتا نظر آتا ہے ۔ حیدرآبادکے شہری اپنی تاریخی ثقافت اور اثاثوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ دورِ حاظر کی طرز کو اپنانے کا ہنر بھی بخوبی جانتے ہیں یہی وجہ ہے کہ گاؤں کہلائے جانے والے حیدرآباد نے اِس برق رفتاری سے خود کو شہر کی رنگینیوں میں رنگ لیا کہ پاکستان سمیت پوری دنیا کے لئے نفع بخش کاروباری مواقع فراہم کئے جس کا اثر کاروباری افراد اور حیدرآباد کے شہریوں پر یکتا مرتب ہوا اور قومی اور بین الاقوامی برانڈز نے حیدرآباد شہر میں آہستہ آہستہ پَر پھیلانے شروع کئے ۔
’کہا جاتا ہے کہ،زندگی مکمل نہیں ہو سکتی مگر آپکا لباس ہو سکتا ہے‘
یہی وجہ ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں بھی بازار اتنے ہی وقار کے ساتھ رواں دواں ہیں جس میں ریشم گلی، شاہی بازار اور جامعہ کلاتھ مارکیٹ سر فہرست نظر آتے ہیں۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ قومی اور بین الاقوامی برانڈز کی رنگینیاں بھی خریداروں اور فیشن کے شوقین افراد کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا کام بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ بازاروں کی اس تقسیم نے اس شہر کے خریداروں کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ کچھ سال پہلے تک حیدرآباد کا اَمیر طبقہ ہی برانڈز کا رٗخ کرتا دکھا ئی دیتا تھاجس کی وجہ سے حیدرآباد کے مشہور بازاروں میں معمول کے مطابق رَش رہتا تھا مگر حیدرآباد کے پہلے اور کامیاب ترین منصوبے ’بولیورڈ مال‘ نے خریداروں کے اعدادو شمار کو درہم برہم کر دیا اور برانڈز کی اڑان کو ایک نیار خ دے دیا جہاں ایک ہی چھت کے نیچے تمام ملکی اور غیر ملکی برانڈز موجود ہیں جس کی وجہ سے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والا فرد اس کی سحر طاری کرنے والی چمک کی طرف کھینچا چلا آتا ہے جو سیل کے دنوں میں کسی میلے کی صورت اختیار کر لیتا ہے کیونکہ سیل کے دنوں میں عورتوں کا ایک جم غفیرمال کا رخ کر لیتا ہے اور برانڈز کی آسمان کو چھوتی قیمتیں اٗن کے پیروں میں رندتی دکھائی دیتی ہیں۔ موجودہ دور میں صرف غریب طبقہ ہی رہ گیا ہے جو برانڈز کی رنگینیوں کو صرف دیکھ کر اپنا دل بہلاتے ہیں جبکہ امیر اور متوسط طبقہ برانڈز کے پروں کے سائے میں جاتے اور انکی اڑان میں شامل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ 
حیدرآباد میں موجودہ برانڈز کے مالکان کا کہنا ہے کہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی طرح شہر حیدرآباد اور اسکی عوام نے ہمیں بخوبی اپنایا ہے اور اس شہر میں ہمیں اٗمید سے کئی زیادہ نفع ہوا ہے امید ہے کہ آنے والے وقتوں میں شہر حیدرآباد میں بھی برانڈز کی اٗڑان اپنی تمام تر بلندیوں تک پہنچ جائے گی اور عوام میں برانڈز کے بڑھتے رجحان سے ہر شخص استفادہ حاصل کر سکے گا جو پاکستان کے لئے مثبت ثابت ہوگا۔

Feature should be reporting based, must carry quotes. 
Basic purpose of feature is to entertain..
Draw scenario. compare and contrast
make it more interesting 
Referred back file improved version by Feb 3, Sunday evening  


حیدرآباد میں ملکی اور غیرملکی برانڈز پر پھیلانے لگے

ولید بن خالد 2k17-MC-105

پاکستان کا تاریخی شہر حیدرآباد جو چند دہائی پہلے گاؤں کا لقب ساتھ لئے لنگڑاتا دکھائی دیتا تھا آج شہر کی دوڑ میں شامل ہو کر دنیا میں روشنیاں بکھیرتا نظر آتا ہے ۔ شہر حیدرآباد اور اس کے شہری اپنی تاریخی ثقافت اور اثاثوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ دورِ حاظر کی طرز کو اپنانے کا ہنر بھی بخوبی جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گاؤں کہلائے جانے والے حیدرآباد نے اِس برق رفتاری سے خود کو شہر کی رنگینیوں میں رنگ لیا اور پاکستان سمیت پوری دنیا کے لئے نفع بخش کاروباری مواقع فراہم کئے جس کا اثر کاروباری افراد اور حیدرآباد کے شہریوں پر یکتا مرتب ہوا اور قومی اور بین الاقوامی برانڈز نے حیدرآباد شہر اور اسکے شہریوں کی
نفسیات کا جائزہ لیتے ہوئے آہستہ آہستہ پَر پھیلانے شروع کئے جو آج مکمل اٗڑان بھر چکے ہیں۔
حیدرآباد کے تاریخی بازار جس میں ریشم گلی، شاھی بازار اور جامہ کلاتھ مارکٹ سرِ فہرست نظر آتے ہیں آج بھی اٗتنے ہی وقار کے ساتھ رواں دواں ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ قومی اور بین الاقوامی برانڈز کی رنگینیاں بھی خریداروں اور فیشن کے شوقین افراد کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا کام بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ بازاروں کی اس تقسیم نے اس شہر کے خریداروں کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ کچھ سال پہلے تک حیدرآباد کا اَمیر طبقہ ہی برانڈز کا رٗخ کرتا دکھا ئی دیتا تھا کیونکہ وہاں قیمتیں عموماً زیادہ ہی ہوتی ہیں جو ہر شخص کی اِسططاعت پر پوری نہیں اٗترتیں جس کی وجہ سے حیدرآباد کے تاریخی، مشہور اورعام بازاروں میں معمول کے متابق رَش رہتا تھا مگر حیدرآباد کے پہلے اور کامیاب ترین منصوبے ’بولیورڈ مال‘ نے خریداروں کے اعدادو شمار کو درہم برہم کر دیا اور برانڈز کی اڑان کو ایک نیا رٗخ دے دیا۔ چونکہ یہ حیدرآباد کا واحد شاہکار ہے جہاں ایک ہی چھت کے نیچے تمام ملکی اور غیر ملکی برانڈز موجود ہیں جس کی وجہ سے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والا فرد اس کی سحر طاری کرنے والی چمک کی طرف کھینچا چلا آتا ہے چنانچہ اس مال کی تعمیر کے بعد خریداری ضرورت اور حیثیت سے نکل کر برانڈز اور بازاروں میں تقسیم ہو گئی ہے اور صرف غریب طبقہ ہی رہ گیا ہے جو برانڈز کی رنگینیوں کو صرف دیکھ کر اپنا دل بھلاتے ہیں جبکہ امیر اور متوسط طبقہ برانڈز کے پروں کے سائے میں جاتے اور انکی اٗڑان میں شامل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ امیر طبقہ کے برعکس متوسط طبقہ سال کے مختلف قومی اور مذہبی تہواروں کی خریداری میں چار چاند لگانے کے لئے برانڈ کا رٗ خ کرتے ہیں جس میں وقتً فوقتً اضافہ ہو رہا ہے۔
موجودہ صورتِ حال کے مشاہدے کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ برانڈز کے محسور کن پھندے کا شکار ہونے والوں میں نوجوان نسل کی تعداد زیادہ ہے۔ خواہ انکا تعلق کسی بھی طبقہ سے ہو خود کو وضح دار دکھانا آج کی نوجوان نسل کی دلی خواہش ہے۔ جس کی تکمیل کے لئے یہ نسل بازاروں سے نکل کر برانڈز کو فرحت بخشنے میں مشغول ہے۔ جس نے برانڈز کی اٗڑان کو مزید بلند کر دیا ہے۔
حیدرآباد میں موجودہ برانڈز کے مالکین کا کہنا ہے کہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی طرح شہر حیدرآباد اور اسکی عوام نے ہمیں بخوبی اپنایا ہے اور اس شہر میں ہمیں اٗمید سے کئی زیادہ نفع ہوا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شہر حیدرآباد میں لوگوں کی اسططاعت اور طبیعت باقی شہروں سے مختلف ہے اور متوسط طبقہ بھی اپنی خواہشات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور اسکے لئے زیادہ محنت کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ انکا مزید یہ کہنا تھا کہ وقت کا جائزہ لیتے ہوئے انھیں امید ہے کہ آنے والے وقتوں میں شہر حیدرآباد میں بھی برانڈز کی اٗڑان اپنی تمام تر بلندیوں تک پہنچ جائے گی اور عوام میں برانڈز کے بڑھتے رجھان سے ہر شخص اس سے استفادہ حاصل کر سکے گا جو ہمارے لئے شہر حیدرآباد کے لئے اس کے شہریوں کے لئے اور ملک پاکستان کے لئے نہایت مثبت ثابت ہوگا۔

Comments

Popular posts from this blog

Mehak ali حیدراباد میں دلہن پراٹھے کی دھوم

Musabbiha Imtiyaz-حیدرآباد میں فوڈ سٹریٹ کا رحجان

حیدرآباد میں صفائی کی ناقص صورتحال