Posts

Sample of investigative report

Image
Labour: Worth their salt With more than 100 salt mines in Tharparkar, workers suffer from serious financial and health problems due to alleged exploitation by salt lake owners and violation of labour laws. This is growing concern not only for salt-mine workers but also for human rights defenders and the locals. “Salt lakes develop naturally. Rainwater that stays on the surface produces salt, however the government claims to own all kinds of minerals present under or above the soil, even though the land could belong to anyone,” says Hamzo, a labourer at Tepari Salt Lake, in agreement with other workers. Even though priority for leasing is given to the locals, they are unable to invest because of poverty. Hence, outsiders are granted leases and hire local labour to work in the harsh environment. In this situation, labour laws are completely ignored. “The lessee is supposed to follow rules and regulations but in reality, they don’t,” says Hamzo. Use of machinery and labour law v...

rida jaffari interview urdu

File Late 1) Proper intro,  how she is known in the area and her field? 2)  Do not use English, when there are appropriate words available in Urdu. 3)  English words will break the format 4)  Photo of personality 5)  Interviewer should also write her name in Urdu Referred back انٹرویو ڈاکٹر علینہ رضوی اور معروف سوشل ورکر سوال: علینہ رضوی سے ڈاکٹر علینہ رضوی بننے کا شوق و جذبہ کیسے بیدار ہوا؟ جواب: جب میں میٹرک میں تھی تو والد رخصت ہوگئیں میں سوچتی تھی کے میں اگر کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھاتی یا لیکر جاتی یا پھر میں ہی کچھ مدد کرتی تو شاید وہ بچ جاتے ، لیکن افسوس ایسا نہیں ہو اور اس دن دل میں خیال آیا میں ایک مسیحا بنوں گی۔ سوال: ایک Professional Doctor بننے کے لیے کن مشکلات کا سامنا کیا؟ جواب: میرے گھر میں میری والدہ اور ایک بھائی رہتا ہے اور بھائی کو ڈاکٹر کام کے سلسلے میں باہر جانا پڑتا ہے اسے مجھے سخت پڑھائی کے ساتھ اپنے گھر کو بھی دیکھنا ہوتا تھا اور گھر کے تمام کاموں کو کر کہ گھر سے نکلتی تھی کیونکے اتنا Affort نہیں کر سکتی تھی کہ کسی Mad کو رکھ ...

hifza rajput interview سلمان راجپوت

File Late If he was born in Hyderabad, then how he is talking about floods in his village?  What is theme? what is information or lesson one should learn from his story or from his ideas? What do u mean by " he belongs to social welfare? qualify. What services he rendered for poor people? this question he did not answered Weak personality, weak questions weak answers Photo of personality is must سلمان راجپوت حفضہ راجپوت 2K17/MC/42 سلمان راجپوت جن کا تعلق سوشل ویلفیئر سے ہے جو18اکتوبر 1995کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے اپنی ابتدائی تعلیم حیدرآباد سے حاصل کر نے بعد قائدعوام یونیور سیٹی میں داخلہ ہوا ۔ اور پھر سول انجینیئر نگ مکمل کر نے کے بعد فلاحی کاموں میں مصروف ہیں چلیں اب ہم مزید ان سے انٹرویو میں جانتے ہیں ۔ س: یہ بتائیں کے آپ نے آپنی سوشل ایکٹیویٹیزکا آغاز کب اور کیسے کیا؟ ج: ویسے تو میں بچپن سے ہی اپنے والد کے ساتھ ان کاموں میں مشغول رہتاتھا کیونکہ ڈاکٹر ہیں اور فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑہ کر حصہ لیتے رہتے ہیں یاد ہے مجھے اپنا پہلا تجربہ 2005میں جب ہما...

waleed shaikh interview انجینئر راول میمن

File Late Edit and delete additional words in intro, they have no meaning no relevance particularly in print media Questions and answers should be  marked as question. Like Question: Answer:  What is theme of this interview? Why this is being taken?  foto? This is not for promotion of  The Awaikners انٹرویو (انجینئر راول میمن) ولید بن خالد  2 k17-MC-105 آج میں جن کا انٹرویو لینے جا رہا ہوں زیادہ تر لوگ انھیں انکی سوشل سروسز کی بنا پر جانتے ہیں ۔انھوں نے جامعہ مہران سے انجینئرنگ مکمل کی مگر تعلیم کے فروغ کوفرغ دینے کے لئے اسکول کھولا اور اسے ہی اپنا پروفیشن بھی بنا لیا۔جی ہاں میں دی روٹس کے مالک انجینئر راول میمن کا ذکر کر رہا ہوں۔راول میمن 2-1-1994کو بدین میں پیدا ہوئے اور اپنی ابتدائی تعلیم بدین سے ہی حاصل کی اور اعلٰی تعلیم کے لئے حیدرآباد منتقل ہو گئے ۔پبلک اسکول حیدرآباد سے گیارہویں اور بارہویں جماعت مکمل کرنے کے بعد جامعہ مہران کی تیاری کی اور 2k13کے بیچ میں پیٹرولیم انڈ نیچرل گیس میں داخلہ لے لیا 2k17میں انجینئرنگ کی صند حاصل کی اور اپنی ...

Fazal Hussain پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمدخان Revised

Image
File Late نظموں کی جگہ موبائل اور کمپیوٹر نے لے لی ہے۔ (شعبۂ اردو کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمدخان) تعارف: ڈاکٹر رفیق احمد جامعۂ سندھ کے شعبہ اردو سے تعلق رکھتے ہیں۔شعبۂ اردو کے لؤ ان کی کا فی خدما ت ہیں جن میں ان کی کئ تصانیف اور شعری مجموعے شامل ہیں۔اردو کے آغاز سے لے کر اردو ادب کے عروج و زوال سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں۔ناول نگاری،انشاء پردازی،افسانہ نگاری،قصہ گوئی اور مضمون نویسی پر بھی عبو ر رکھتے ہیں ۔ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت،ادبی خدمات،خوش مزاجی،اعلٰی اخلاق اور بارعب شخصیت کی وجہ سے جامعۂ سندھ میں کافی مقبول ہیں۔ ڈاکٹررفیق احمدخان۱۳جون۱۹۶۱ء کو حیدرآباد شہر میں پیدا ہوئے۔والد ہندوستان کے شہر بدائیوں جبکہ والدہ اجمیر شریف سے تعلق رکھتی تھیں۔ابتدائی تعلیم نور السلام گورنمنٹ اسکول سے حاصل کی اورپبلک اسکول سے مڈل کا امتحان پاس کیا۔سائنس کے مضامین میں بی ایس سی کرنے کے بعد جامعۂ سندھ سے اردو ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کیا اسی جامعہ سے پی ایچ ڈی مکمل کی اور اسی شعبہ سے وابستہ ہوگئے۔دو کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ایک ڈا کٹر نجم الاسلام (ایک شخص ایک عہد)اور دوسری کتاب (رسالۂ تح...